ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کاروار: گہرے سمندر میں ماہی گیری کے دوران مختلف وجوہات  سے 3برسوں میں 90ماہی گیروں کی موت

کاروار: گہرے سمندر میں ماہی گیری کے دوران مختلف وجوہات  سے 3برسوں میں 90ماہی گیروں کی موت

Tue, 05 Feb 2019 19:14:08    S.O. News Service

کاروار:05؍فروری (ایس او نیوز)اترکنڑا ضلع میں پچھلے تین برسوں کی مدت میں ماہی گیر ی کے دوران مختلف اسباب کی بنا پر  90 ماہی  گیر ہلاک ہونے کا پتہ چلاہے۔جن میں کشتی کا توازن کھوکر، کشتی میں بیٹھنے کے دوران پیر پھسل کر، صبح سویرے نیند کے خمار میں سمندر میں گر کر ہلاک ہونے کی با ت کہی گئی ہے۔ اسی طرح سمندر کنارے نالے میں گر کر جال میں پھنس کر بھی  ایک دو ماہی گیر ہلاک ہوئے ہیں۔

 سمندر میں غرق ہونےو الے ماہی گیروں کو بچانے کے دوران کوئی مدد کو نہیں پہنچنے والے حالات کو یاد کرکے ماہی گیر کانپ جاتے ہیں۔ ماہی گیری پیشہ کو لےکر ماہی گیروں کے لیڈر ونایک ہریکنتر نے  خیال ظاہر کیا کہ ماہی گیری کاپیشہ خطرات سے بھرا ہوا ہے، بارش کے موسم میں طوفانی ہوائیں، اماوس اور پونم کے موقع پر سمندر میں اٹھنے والی اونچی اونچی موجیں ہمیشہ ہمارا پیچھا کرتی رہتی ہیں۔ ان کٹھن اور مشکل حالات کے دوران بھی پیٹ کے لئے اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح ساحلی ماہی گیروں کے ساتھ شمالی کرناٹکا کے کئی لوگ کشتی ڈرائیور ، معاون کی حیثیت سے بھی کام کرتے ہیں، لیکن جب کوئی حادثہ پیش آتاہے تو انہیں کوئی معاوضہ نہیں ملتا، تو ضروری ہے کہ قانون میں ترمیم کرنے کی انہوں نے صلاح دی۔

محکمہ ماہی گیر کے نائب  ڈائرکٹر پی ناگراج نے بتایا کہ سمندرمیں ماہی گیری کے دوران ہلاک ہونےو الے ماہی گیروں کے خاندان والوں کی مشکلات میں محکمہ بھی شریک رہتاہے، ماہی گیری معاون محاذ کے ذریعے مشکلات فنڈ سے انہیں معاوضہ دیاجاتاہے۔ واقعہ کی سنگینی کو دیکھ کر کم سے کم 1لاکھ روپیوں سے زیادہ سے زیادہ 6لاکھ روپیوں تک معاوضہ کا اعلان کئے جانےکی بات کہی۔

معاوضہ کے شرائط : مہلوک ماہی گیر کسی  بھی پرائمری مچھلی سنگھا کا ممبر ہے تو ہی معاوضہ پانا ممکن ہوتاہے، مرکزی حکومت 60برس کی عمروالے ماہی گیروں کو ہی معاوضہ دیتی ہے ، مگر ریاستی حکومت سے عمر کی کوئی قید نہیں ہونےکی  آفیسر ناگراج نے جانکاری  دی۔ انہوں نے بتایا کہ ماہی گیری کے دوران لاپتہ ہونے والے ماہی گیروں کو زیادہ معاوضہ کا اعلان نہیں کیا جاتا۔ لاپتہ شخص کا  7برسوں کےبعد بھی پتہ نہیں چلا تو اس کو ہلاک شدہ قرار دینے کے  لئے قانون میں سہولت ہے۔ اس کے باوجود ماہی گیروں کے خاندان کی حالات پر غور کرکے ہرممکن امداد اور معاوضہ دیاجاتاہے۔ اگر وہ 7برسوں بعد پایا جاتاہے تو دی گئی رقم لوٹانے کے لئے کاغذات پر دستخط لئے جانے کی با ت کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ماہی گیر کشتیوں کو ڈیزل پر دی جانے والی رعایت میں سے 1.25فی صد رقم مہلوک ماہی گیروں کے خاندانوں کی امداد کے لئے  جمع رکھتے ہیں۔


Share: